دنیا مین کتنے دن رہنا ہے

                        


                         دنیا میں کتنے دن رہنا ہے

 ایک حدیث میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ دنیا کے لئے اتنا کام کرو جتنا دنیا میں رہنا ہے اور آخرت کے لیے اتنا کام کرو جتنا آخرت میں رہنا ہے لہذا یہاں رہتے ہوئے انسان کو زیادہ عمل  آخرت کے لیے کرنا چاہئے اور دنیا کے لئے اتنا کام کریں جتنا دنیا میں رہنا ہے اس لیے مکان کی بہت زیادہ آرائش و زیبائش کی لگن پسندیدہ نہیں ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک راستے سے گزر رہے تھے آپ نے دیکھا کہ ایک صحابی اپنے مکان کی مرمت کر رہے ہیں مکان بھی کوئی پختہ اور عالیشان نہیں تھا بلکہ بلکہ ایک جھو نپڑی  تھی جس کو وہ درست کر رہے تھے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا وہاں سے گزر ہوا آپ نے اس کو دیکھ کر فرمایا کہ معاملہ تو اس سے بھی زیادہ جلدی کا ہے یعنی تم اس  جھونپڑی کی مرمت میں لگے ہوئے ہو جبکہ کچھ پتہ نہیں کب موت آجائے اس زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں یعنی اس کی تیاری کے مقابلے میں موت کا معاملہ اور جلدی کا ہے آپ نے ان صحابی کو مرمت کرنے سے منع نہیں فرمایا اور یہ نہیں فرمایا کہ تم کیوں اس کی مرمت کر رہے ہو حرام اور ناجائز بھی نہیں کہا لیکن توجہ اس طرف دلا دی  کہیں ایسا نہ کہ گھر کی مرمت میں رہ کر بھول جاؤ ایک دن یہاں سے جانا ہے اور آخرت سے غافل ہو جاؤ

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ یہ تھا کہ صحابہ کرام کے دل میں ہر وقت آخرت کی فکر  اور آخرت کا تصور  اس طرح جاگزین کرتے تھے کہ ہر وقت انسان کی آنکھوں کے سامنے یہ منظر ہے کہ مجھے اس دنیا سے جانا ہے 

اور آخرت میرے سامنے ہیں اگر یہ بات حاصل ہوجائے تو ساری زندگی سنور جائے صحابہ کرام فرماتے تھے کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھے تھے اور آپ کی باتیں سن رہے تھے تو ہمیں ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ہم اپنی آنکھوں سے   جنت اور دوزخ دیکھ رہے ہیں  دل و دماغ پر آخرت کی فکر اسطرحجاگزین فرما دیتے تھے کہ ہر وقت آخرت کا تصور ایک مومن کے سامنے رہتا تھاا

1 تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں
جدید تر اس سے پرانی